بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے آج (جمعرات) 16 جولائی کو امریکہ کے حالیہ حملوں اور جنگی جرائم کے بارے میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے دفاعی حملے اس کے قانونی اور ذاتی حق کے زمرے میں آتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے تمام ممالک خاص طور پر خلیج فارس کے جنوبی ہمسایوں کو ذمہ دار ٹہرایا اور مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین اور وسائل ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔
بیان کے مطابق امریکہ نے گذشتہ چند دنوں میں ایران کے خلاف جارحانہ حملے تیز کر دیئے ہیں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن میں بمپور میں فوجی چھاؤنی پر حملہ، ہویزہ میں گندم کے گودام، دہلران میں منرل واٹر فیکٹری اور چابہار میں سمندری کنٹرول ٹاور پر حملے شامل ہیں۔ ان حملوں میں 7 فوجی شہید اور کئی زخمی ہوئے۔
وزارت خارجہ نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور امریکی حکام کو خبردار کیا کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات پر عمل کرنے کے بہانے جنگی جرائم کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران تیسری بار سفارتکاری کو دھوکہ دیا اور 14 نکاتی مفاہمت نامے پر دستخط کے صرف 20 دن بعد اس کی خلاف ورزی کی۔
ایران نے اپنے دفاع کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا عزم ظاہر کیا اور بیان میں کہا گیا کہ یہ ملک دشمن کی جارحیتوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔
ایران نے ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں اور امریکہ-اسرائیل کی سازش کو ناکام بنائیں۔
ایران نے زور دیا کہ اس کی کسی بھی ہمسایہ ملک سے دشمنی نہیں ہے اور علاقائی سلامتی کا واحد راستہ امریکی مداخلت کے بغیر باہمی مفاہمت اور علاقائی تعاون ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ